”ابراہیم ایک عام بچہ نہیں تھا۔ وہ اَن چاہا تھا۔ میری طرح۔“ مالک نے ٹانگ پر جمی ٹانگ ہٹا دی۔ اپنی نشست پر سیدھا ہوا۔ ہاتھ باہم ملا لیے۔ ”اسکے والدین اسے دنیا میں لائے۔ پھر انہیں احساس ہوا۔ آہ۔۔ ہم سے خطا ہوگئی۔ اسے پیدا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اور پھر۔۔“
اسنے واپس سے صوفے کی پشت پر بازو ٹکا دیا۔ ”انہوں نے اسے مار ڈالنا چاہا۔ اُس وقت۔۔ میں نے اسے بچایا تھا۔“ سینے پر انگشت سے ٹہوکا دیا۔ ”اب وقت ہے کایا پلٹ کا۔ وہ موت جو وہ ابراہیم کو دینا چاہتے تھے۔ میں انکا اسی موت سے سامنا کروانا چاہتا ہوں۔ تاکہ انہیں احساس ہوسکے کہ گناہوں کی سزا اُس دوسری دنیا میں نہیں (انگشت سے فلک کی سمت اشارہ کیا) بلکہ اِس دنیا میں بھی ملتی ہے۔“ انگشت گرائے زمین کا حوالہ دیا۔
”ہم انسان اس سزا جزا کا اختیار نہیں رکھتے۔“
”رکھتے ہیں۔ ظلم ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ اور اس دنیا میں ہم ہی اسکا بدلہ لیں گے۔“ اسکا ہاتھ صوفے کی پشت سے نیچے آگیا۔ ”خون کے بدلے خون۔ دانت کے بدلے دانت۔“
Give us feedback in comment section. In case of any issue contact us. Mail us your readings on onlineomegabooks@gmail.com.
Share our novels anywhere, with your friends and family. Do give feedback in comment section below.




0 Comments