Tilisam written by Farwa Yousaf
New Novel 📚
Sneak Peek
اُس روز سے جب سے اسنے اپنے باغ میں لگا وہ لاونڈر پھول توڑا تھا۔وہ اُسی روز اسے پہلی بار دِکھی تھی۔ اور اسکے بعد سے وہ اسکے سحر سے نجات حاصل نہیں کرسکا تھا۔ اِس پھول میں اسکی جان بسی تھی یاں وہ پھول طلسمی تھا؟ وہ اندازہ نہ کر سکا۔ زہر رنگ پھول نے نائل کی زندگی بدل دی تھی۔ وہ اکثر ہی خود کو اس زہریلے پھول کے باغ میں کھڑا پایا کرتا تھا۔ اطراف میں دائیں بائیں صرف وہی لاونڈر پھول ہوتے تھے جسے وہ کسی نازک گھڑی میں انجانے میں توڑ بیٹھا تھا۔ اس ایک خطا کے نتیجے میں اسنے اپنا سکون گنوا دیا تھا۔ اسے جبھی گھر سے نکلنے میں خوف محسوس ہوتا تھا۔ گر جو اسنے کسی کو نقصان پہنچا دیا تو؟ وہ کسی لڑکی سے ملتا تو اِسے وہ پشت پر کھڑی دکھائی دیتی۔ اسکو دیکھ مسکراتی ہوئی۔ اِسکو یاددہانی کرواتی ہوئی۔ کہ اسے واپس لوٹنا تھا، اسی کی دنیا میں۔۔ نائل اسکا تھا اور وہ اسے کسی اور کے سپرد کرنے والی ہرگز نہیں تھی۔ وہ اسکی خاطر کسی کی بھی جان لینے سے گریز نہیں کرے گی۔ وہ جانتا تھا جبھی احتیاط کرتا تھا اور اپنے محل کی درو دیوار میں قید رہنا پسند کرتا تھا۔ وہ اُڑنا چاہتا تھا یاں نہیں؟ اسنے کبھی سوچا نہیں تھا۔ سوچتا تو دل بے چین ہوتاجبھی سوچنے سے گریز کرتا۔
وارڈروب سے سلک کا سیاہ شب خوابی والا لباس نکال وہ واش روم سے اپنے کپڑے تبدیل کئے نکلا تو اسکے خیالات کا تسلسل ایک چھناکے سے ٹوٹا۔ قدم خودبخود الٹی سمت اٹھے۔ حلق سے چیخ نکلتی اس سے قبل ہی مقابل نے آگے بڑھتے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
حیرت سے نائل کی آنکھوں کے کنارے پھیل گئے۔ وہ اسے دیکھے گیا جو بے چین سی کبھی اسکا چہرا دیکھتی لب ہلائے کچھ کہتی تو کبھی دروازے کی سمت دیکھنے لگتی۔
وہ آنکھیں انجان تھیں۔ چہرا نیا تھا۔
پروہ اِسے خوفزدہ نہیں کرتی تھیں۔ وہ احساس نائل کیلئے نیا تھا جبھی اسے عجیب محسوسات چھو گئے تھے۔
وہ دھن جو وہ اکثر تنہائی میں بجایا کرتا تھا۔ آج اسکے اطراف میں وہی موسیقی گونجنے لگی تھی۔ وہ احساس بے حد عجیب تھا۔ جیسے دل مچل رہا تھا۔ اسکے پہلو سے نکلنے کی تمنا کرنے لگا تھا۔
”پلیز۔ چلانا مت۔ میری بات سن لو پہلے۔“آنکھوں میں منت رقم تھی۔ ”میں ہاتھ ہٹا رہی ہوں۔ پلیز چلانا مت۔“اسنے ہاتھ ہٹا لیا۔ وہ اسے ہنوز ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ ”ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟“
وہ ہنوز دیکھے گیا تو اسنے نائل کے گال تھپتھپائے۔دو قدم پیچھے ہٹ کر فاصلہ قائم کیا۔ وہ ہوش میں آیا تو دو قدم پیچھے ہٹا۔ دیوار سے پشت ٹکرا گئی تو بے اختیار چلایا۔”گارڈز۔۔“
وہ چونکی۔ ماتھا پیٹ لیا۔ ”اوہ خدایا۔“ گارڈز کے قدموں کی چاپ سنائی دی تو وہ خوفزدہ بستر کے قریب نیچے بیٹھ گئی۔ یوں کہ دروازہ کھل کر داخل ہونے والا گارڈ اسے دیکھ نہ پاتا۔ ”دیکھو۔ میں وضاحت دینے کیلئے تیار ہوں۔ پلیز۔۔ پلیز انکو میرے متعلق کچھ مت بتانا۔ میں تمہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچانے والی۔ نہ ہی
میں کوئی چور یاں ٹھگ ہوں۔“
Coming Soon!




0 Comments