بارش نے زور پکڑ لیا۔ بادل گرجے۔ سارے میں روشنی پھیل گئی۔ بارش کی بوندوں میں روانی آگئی۔ کھڑکیوں سے ٹکراتی بوندوں نے اسکے خیالات کے تسلسل کو توڑا تھا۔ وہ اپنے تخیل سے نکلا تو دوبارہ اس میں قدم نہ رکھ سکا کہ بارش کے شور نے سارا تسلسل خراب کردیا تھا۔ اسے خاموشی چاہئے تھی۔ اسنے ریسرچ پیپر بند کیے اور اپنی میل آئی ڈی کھولی۔ دیگر پبلشرز کو میل بھیجی تھیں پر کسی سے جواب موصول نہ ہوا تھا۔ اسنے ریفرش کیا۔پُرسوچ نگاہ اسکرین پر جمی تھی۔آخر کمی کہاں تھی؟
دروازے پر دستک ہوئی تو وہ لیپ ٹاپ بند کیے باہر آیا۔ گھر کا دروازہ کھولا تو دیکھا مالک مقابل کھڑا تھا۔ اسکی گود میں کوئی ننھا وجود تھا۔ اسنے اس بچے کو اپنے کوٹ میں چھپا رکھا تھا۔ اندر آیا اور لاؤنج میں بیٹھتے اسکو صوفے پر لٹایا۔ وہ بھوک کی شدت تھی شاید کہ وہ پھر سے رونے لگا تھا۔ ”کچن میں جاؤ۔ فریج میں دودھ رکھا ہوگا۔ اسے ابلنے کیلئے رکھ دو۔ میں نائل کا فیڈر ڈھونڈ کر لاتا ہوں۔“
”تمہیں یہ بچہ کہاں سے ملا؟“اسنے کوٹ اتار اسے بچے کے وجود پر اوڑھایا۔
”ڈسٹ بن کے کنٹینر سے۔“ کارلوس نے دکھ سے اس بچے کو دیکھا۔ مالک اندر نائل کے کمرے میں آیا۔ وہ جو شور کے باعث اٹھ چکا تھا۔ کمرے کی دہلیز میں کھڑا آنکھیں مسلتا اس ننھے وجود کو دیکھ رہا تھا جو رو رو کر بے حال ہو رہا تھا۔
”نائل۔ جب تک مالک انکل نہیں آتے اسکے پاس بیٹھ جاؤ۔“وہ چلتا اسکے قریب آیا۔اسکے ہونٹوں کو سہلایا۔ اسکے نرم ننھے ہاتھوں نے نائل کی انگشت کو دبوچ لیا تھا۔
”ابا۔۔ ابا۔۔ اسنے میری انگلی پکڑ لی۔“ وہ خوشی سے چہکتا بولا۔ ”اوہ تم کتنے پیارے ہو۔“ اسنے بچے کے گالوں کوہاتھوں کے حالے میں لیا۔ ”ابا۔۔ اسکے گال اتنے نرم ہیں۔“ مالک باہر آیا تو دیکھا وہ خوشی سے چہکتا اس بچے سے باتیں کر رہا تھا۔
”ابا۔۔ ابا۔۔ اسنے آنکھیں کھولی ہیں۔“ وہ چیخا تھا۔
”نائل۔ بس بھی کرو۔“ پر وہ بس کرنے والا نہیں تھا۔ اسے چھوٹے بھائی کی خواہش تھی اور بلآخر اسکی خواہش پوری ہوتی نظر آ رہی تھی۔
”اوہ۔۔ کتنے پیارے پیارے چھوٹے ہاتھ ہیں تمہارے۔“ وہ اسکی گرفت میں اپنی انگشت قید کروائے صوفے پر بیٹھا جھومنے لگا۔ ”ابا یہ بڑا ہو کر میرے ساتھ اسکول جائے گا نا؟ ہم دونوں ساتھ جائیں گے۔ پہلے ہی بتا رہا ہوں اسکو میرے اسکول میں داخل کروانا ہے۔“
مالک اسکو دیکھ اس پریشان ماحول میں بھی مسکرا دیا تھا۔ دودھ گرم ہوچکا تو وہ اسے فیڈر میں منتقل کیے اسے پلانے لگا۔ ”نائل کے کوئی چھوٹے کپڑے دیکھو۔ اگر کوئی اسکو پورے آ سکیں۔“کارلوس سے پہلے ہی وہ بھاگ کر کمرے میں گیا اور اپنی الماری کھول کپڑے اتھل پتھل کرنے لگا۔
”نائل۔۔ کیا کر رہے ہو؟ تمہیں صبح اسکول بھی جانا ہے۔ جاؤ۔۔ جا کر سو جاؤ۔۔“ابا نے ڈپٹا تو وہ منہ بسورے مالک کے پاس گیا۔ کارلوس اسکے پرانے کپڑے ڈھونڈنے لگا تھا۔
”اب یہ ہمارے ساتھ رہے گا؟“اسنے بچے کے گالوں کو انگشت سے نرمی سے سہلاتے پوچھا۔ مالک نے ہنکار بھرا۔ ”اسکا نام کیا ہے؟“
”تم ہی بتاؤ۔ کیا نام رکھیں اسکا۔؟“ وہ سوچ میں ڈوب گیا۔ کارلوس اسکے کپڑے لیے آیا۔
”ابراہیم۔۔“
Give us feedback in comment section. In case of any issue contact us. Mail us your readings on onlineomegabooks@gmail.com.
Share our novels anywhere, with your friends and family. Do give feedback in comment section below.




0 Comments