Subscribe Us

Hakim written by Farwa Yousaf (Sneak Peek # 1)

Hakim written by Farwa Yousaf


New Novel 📚
First Look 💗

بیڈ کور کو مٹھی میں جکڑے وہ نیند سے بیدار ہونے کا خواہاں تھا مگر نیند اس سے خفا ہونے کو ابھی تیار نہیں تھی۔”معاف کرنا....“ ویرانی میں گونجا۔آنسوؤں سے بھیگا چہرا لئے اسنے رُخ موڑا۔ وہ آواز اور اسکا عکس.....
       یکدم اسکے سر سے کوئی بھاری بھرکم شے ٹکرائی....
       اسکے اردگرد اندھیرا چھا گیا۔ اسے گھسیٹا جا رہا تھا اور یکدم....
       اسنے خود کو اونچائی سے گرتا ہوا محسوس کیا.....
............................
سرپنج کے مشٹنڈوں نے اسے شانت کرنے کی کوشش میں اسکے منہ پر مکا جڑھ دیا۔
    ”ہاہ۔“ پھولے تنفس والا ارمان گویا ہوا۔ ”گاؤں کی روایت؟“ استہزائیہ انداز تھا۔اسکے حلق میں خون جمع ہوا تھا جسے اسنے مشٹنڈوں کے پیروں پر تھوک دیا۔ ”تھوکتا ہوں میں اِن روایات پر جس کے نام پر معصوموں کی جان کی بَلی(قربانی) دی جاتی ہے اور عورتوں کی عزت کو لوٹا جاتا ہے۔“
.......................
 بارش نے زور پکڑ لیا۔ اِس سیاہ لفافے سے ننھا ہاتھ باہر آیا جس نے مدد کیلئے کسی کو پکارا تھا۔ آسمان زور وشور سے برسا تھا۔ کتوں کے بھونکنے کی آواز قریب سے آنے لگی تو وہ ننھا وجود مزید چلانے گیا۔
    ”ہشش.... ہششش....“لکڑی کا ڈنڈا تھامے کوئی دھوڑتا ہواکتوں کو بھگانے کی نیت سے آیا تھا۔ سماعتوں سے کلکاریاں ٹکرائی تو اسنے ان کے تعاقب میں نگاہ گھمائی۔ چلتا وہ کوڑے دان کی سمت آیا تو ننھا ہاتھ دکھائی دیا۔
     آدمی کے ہاتھ سے ٹارچ چھوٹتی زمین پر جا گری۔
     اسنے کوڑے سے سیاہ تھیلا نکال اس ننھے وجود کو اپنی شرٹ میں لپٹا لیاجو سسکتا اسکی آغوش میں آکر گرمائش ملنے پرخاموش ہو گیا تھا۔
............................
”وہ صرف کرسی نہیں بلکہ طاقت ہے۔جس کا کرسی پر اختیار ہوا وہی پورے ملک اور اسکے لوگوں کا حاکم کہلائے گا۔“
      ”حاکم؟ مجھے لوگوں پر حاکم بن کر نہیں بیٹھنا۔ میں جس شخص پر حاکمیت حاصل کرنا چاہتا تھا وہ آج میری بیوی کے روپ میں میرے ساتھ موجود ہے۔ مجھے اسکے علاوہ کچھ نہیں چاہئے۔ کوئی کرسی۔ کوئی طاقت۔ کوئی حکمرانی نہیں۔“
......................
 ”لوگوں کے ذہن سے کھیلنا کوئی مجھ سے سیکھتا۔لوگوں کو دھوکا دینا کوئی مجھ سے سیکھتا۔“وہ اسکی نیلی آنکھوں میں دیکھتا بولا تو صوفیہ دانتوں کی نمائش کرتی ہنس دی۔
................................
 ”لیلی مجنو۔ہیر رانجھے۔کے بعد لوگ کومل اور ارمان کی پریم کہانی کو بھی سنہرے حروف میں درج کریں گے۔“
       ”اور اسکے بعد نتاشہ اور ارناو کا نام بھی ان لوگوں میں شامل ہو جائے گا۔ اگر تو نے کھیتوں میں آنا بند نہ کیا تو۔“پانی کا گھونٹ بھرتا وہ بولا تو نتاشہ نے منہ بسور لیا۔
................................
 ”وہ مائی باپ ہیں ہمارے۔ حاکم ہیں ہم گاؤں واسیوں کے۔ تیرے۔ میرے۔ ہم سب کے۔ہمارا سر بھی دھڑ سے الگ کر دیں تب بھی لبوں سے اُف تک نہیں نکلنا چاہئے۔“
..................
”تو اب ہم کیا کریں گے؟یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے کیا؟“اب کی بار وہ بولی تو آواز سے تھکاوٹ جھلکتی تھی۔
      ”مجھے لگتا ہے ہمیں ایک دوسرے کو بھول جانا چاہئے۔“وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تو ارناو نے گردن پیچھے کو گرائے اسے دیوار کے پار دیکھا۔
      وہ اٹھا تو نتاشہ نے اسکا گریبان دبوچ لیا۔ ”میں نے تجھ سے ہزار دفعہ کہا ہے اور آج ایک آخری دفعہ دہرا رہی ہوں۔ میں بیاہ رچاؤں گی تو صرف تجھ سے ورنہ میں تجھے زہر دے دونگی اور خود کسی ٹرک کے نیچے آ کر اپنی جان دے دونگی۔“
..................................
  ”So dark, So deep.The secrets that you keep۔“

Genre:

Gangster, Indian culture, Politics, Suspense, Religious, Love, Self Love, Youth.



Coming Soon! 


Follow us on:


Subscribe our Channel on Youtube:
   

Give us feedback in comment section. In case of any issue contact us. Mail us your readings on onlineomegabooks@gmail.com.

Share our novels anywhere, with your friends and family. Do give feedback in comment section below. 

Post a Comment

0 Comments